67 غزل ملی
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
خیال جس کا تھا مجھے، خیال میں ملا مجھے سوال کا جواب بھی سوال میں…
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
وہ شمعِ اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں اک روز چمکنے والی…
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جانِ آرزو! تو ہی بتا دے ناز سے ایمانِ آرزو!
اے دل! وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے وہ عمر کیا ہوئی، وہ زمانے کدھر…
خالی ہے ابھی جام، میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردشِ ایام، میں کچھ سوچ…
ہنس کے بولا کرو، بلایا کرو آپ کا گھر ہے، آیا جایا کرو
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا دوستوں کو کہاں پکارا تھا
وہ روشنی جو شفق کا لباس چھوڑ گئی مرے لیے تو وہ لمحے اداس چھوڑ…
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا