کاپی ہو گیا ✓
غزل

ہنس کے بولا کرو، بلایا کرو

از: عبدالحمید آدم

42 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ہنس کے بولا کرو، بلایا کرو
آپ کا گھر ہے، آیا جایا کرو

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور
روپ بڑھتا ہے، مسکرایا کرو

حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو
جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو

بات کرنا بھی بادشاہت ہے
بات کرنا نہ بھول جایا کرو

حکم کرنا بھی اک سخاوت ہے
ہم کو خدمت کوئی بتایا کرو

تاکہ دنیا کی دلکشی نہ گھٹے
نت نئے پیرہن میں آیا کرو

ہم حسد سے عدمؔ نہیں کہتے
اس گلی میں بہت نہ جایا کرو

عبدالحمید آدم
عبدالحمید آدم
پروفائل دیکھیں →

عبدالحمید آدم (1910–1981): ایک مشہور شاعر جنہیں جدیدیت کے انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔ آدم نے اپنی غزلوں میں وجودیت اور انفرادیت جیسے موضوعات کو اجاگر کیا۔