کاپی ہو گیا ✓
غزل

پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں

از: عبداللہ زریم

120 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں
اب اس کے جادو بدن کے ترانے گاتے ہیں

ہمیں منا بھی لیا کر کہ مان رہ جائے
ہم ایسے لوگ مروّت میں روٹھ جاتے ہیں

نمی تو خاک کی تہ میں قیام کرتی ہے
ہم ایسے ہیں نہیں جیسا تمہیں دکھاتے ہیں

تم اتنی دیر میں مجبوریاں بنا لو کہ ہم
گئے دنوں کی رفاقت اٹھا کے لاتے ہیں

ہم اس کے ذہن پہ اک عرصہ تک سوار رہے
سو باقیہ عمر یہی اک خوشی مناتے ہیں

جوان ہوتے ہی جس نے بکھرنا ہوتا ہے
ہم ایسے خواب کو اپنا لہو پلاتے ہیں

عبداللہ زریم
عبداللہ زریم
پروفائل دیکھیں →

عبداللہ زریم ایک ابھرتے ہوئے اور بے حد مقبول نوجوان پاکستانی شاعر ہیں، جن کا تعلق بھکر، پنجاب سے ہے۔ ان کی پیدائش 1999ء میں ہوئی۔ وہ اپنی سادہ، دل…