334 شاعری ملی
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں اک رسمِ وفا تھی سو وفادار…
دیپ تھا یا تارا، کیا جانے دل میں کیوں ڈوبا، کیا جانے
چاکِ دل بھی کبھی سلتے ہوں گے لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
اجالا دے چراغِ رہگزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارہ ہم سفر آساں نہیں ہوتا
کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے…
جو چراغ سارے بجھا چکے، انہیں انتظار کہاں رہا یہ سکوں کا دورِ شدید ہے،…
اچانک دلربا موسم کا دل آزار ہو جانا دعا آساں نہیں رہنا، سخن دشوار ہو…
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا ادنیٰ کے لیے مقامِ اعلیٰ بخشا عقل و ہنر…
احباب سے امید ہے بے جا مجھ کو امیدِ عطائے حق ہے زیبا مجھ کو کیا…
اے مومنو! فاطمہؑ کا پیارا شبیرؑ کل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیرؑ ہو جائیں گے…
گلشن میں پھروں کہ سیرِ صحرا دیکھوں یا معدن و کوہ و دشت و دریا…