کاپی ہو گیا ✓
غزل

بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری

از: سکندر علی وجد

150 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری
جہانِ ہوش میں آئے تو دیوانوں پہ کیا گزری

دکھاؤں تجھ کو منظر کیا گلوں کی پائمالی کا
چمن سے پوچھ لے نوخیز ارمانوں پہ کیا گزری

بہار آئے تو خود ہی لالہ و نرگس بتا دیں گے
خزاں کے دور میں دلکش گلستانوں پہ کیا گزری

نشانِ شمعِ محفل ہے نہ خاکِ اہلِ محفل ہے
سحر اب پوچھتی ہے رات پروانوں پہ کیا گزری

ہمارا ہی سفینہ تیرے طوفانوں کا باعث تھا
ہمارے ڈوبنے کے بعد طوفانوں پہ کیا گزری

میں اکثر سوچتا ہوں ’وجدؔ‘ ان کی مہربانی سے
یہ کچھ گزری ہے اپنوں پر تو بیگانوں پہ کیا گزری

سکندر علی وجد
سکندر علی وجد
پروفائل دیکھیں →