کاپی ہو گیا ✓
غزل

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

از: عمیر نجمی

151 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے

رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلاسٹر کی نمی
قہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے

جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے
ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے

میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لیے
شہزادی، یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے

ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرا
میں نکل جاؤں اگر خشک گزرگاہ ملے

اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی
جیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے

گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی
جس نے ملنا ہو مجھے آئے سرِ راہ ملے

عمیر نجمی، رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف شاعر ہیں۔ وہ خاص طور پر اپنی اردو غزلوں اور نظموں کی بدولت ادبی دنیا میں پہچانے…