کاپی ہو گیا ✓
غزل

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

از: عمیر نجمی

40 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے

رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلاسٹر کی نمی
قہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے

جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئے
ایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے

میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لیے
شہزادی، یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے

ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرا
میں نکل جاؤں اگر خشک گزرگاہ ملے

اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگی
جیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے

گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئی
جس نے ملنا ہو مجھے آئے سرِ راہ ملے

عمیر نجمی، رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف شاعر ہیں۔ وہ خاص طور پر اپنی اردو غزلوں اور نظموں کی بدولت ادبی دنیا میں پہچانے…