60 غزل ملی
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں اک رسمِ وفا تھی سو وفادار…
دیپ تھا یا تارا، کیا جانے دل میں کیوں ڈوبا، کیا جانے
چاکِ دل بھی کبھی سلتے ہوں گے لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
اجالا دے چراغِ رہگزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارہ ہم سفر آساں نہیں ہوتا
کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے…
جو چراغ سارے بجھا چکے، انہیں انتظار کہاں رہا یہ سکوں کا دورِ شدید ہے،…
اچانک دلربا موسم کا دل آزار ہو جانا دعا آساں نہیں رہنا، سخن دشوار ہو…
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی…
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا، ہر راستہ سنسان ہوا اپنا کیا ہے، سارے…
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد میں ستارہ نہیں دیکھا جاتا
میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی، تجھے…