کاپی ہو گیا ✓
غزل

دیپ تھا یا تارا، کیا جانے

از: آدا جعفری

27 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

دیپ تھا یا تارا، کیا جانے
دل میں کیوں ڈوبا، کیا جانے

گل پر کیا کچھ بیت گئی ہے
البیلا جھونکا، کیا جانے

آس کی میلی چادر اوڑھے
وہ بھی تھا مجھ سا، کیا جانے

ریت بھی اپنی، رُت بھی اپنی
دل رسمِ دنیا، کیا جانے

انگلی تھام کے چلنے والا
نگری کا راستہ، کیا جانے

کتنے موڑ ابھی باقی ہیں
تم جانو، سایہ کیا جانے

کون کھلونا ٹوٹ گیا ہے
بالک بے پروا، کیا جانے

ممتا اوٹ دہکتے سورج
آنکھوں کا تارا، کیا جانے

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…