کاپی ہو گیا ✓

فرامین

میرے ظہور کی جلدی کے لیے کثرت سے دعا کیا کرو، کیونکہ اسی میں تمہاری کشادگی اور بھلائی ہے

— کمال الدین وتمام النعمة، ج 2، ص 485؛ الاحتجاج، ج 2، ص 497۔

از: حضرت امام مہدی (عج)

بہترین بھائی وہ ہے جو تمہیں تمہاری برائیوں سے آگاہ کرے

— بحار الأنوار، علامہ مجلسی، جلد 75، ص 374۔

از: حضرت امام حسن عسکری (ع)

لوگ دنیا میں مال کے ذریعے آزمائے جاتے ہیں، جبکہ آخرت میں اعمال کے ذریعے

— تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص 483۔

از: حضرت امام علی نقی (ع)

مؤمن کی عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے

— بحار الأنوار، علامہ مجلسی، جلد 75، ص 364

از: حضرت امام محمد تقی (ع)

ایمان صرف زبانی اقرار نہیں، بلکہ دل سے یقین، زبان سے اقرار، اور اعضاء سے عمل کا نام ہے

— عیون أخبار الرضا، شیخ صدوق، جلد 2، ص 28؛ بحار الأنوار، جلد 68۔

از: حضرت امام علی رضا (ع)

طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔

— الکافی، جلد 2، کتاب الإيمان والكفر، باب الغضب

از: حضرت امام موسیٰ کاظم (ع)

عبادت صرف زیادہ نماز اور روزے کا نام نہیں، بلکہ عبادت اللہ کے امر میں غور و فکر کرنے کا نام ہے۔\"

— الکافی، جلد 2، کتاب الإيمان والكفر، باب التفكر۔

از: حضرت امام جعفر صادق (ع)

عالم سے حاصل ہونے والا ایک فائدہ، ہزار عبادت گزاروں کی عبادت سے بہتر ہے۔

— الکافی، جلد 1، کتاب فضل العلم، ص 35

از: حضرت امام محمد باقر (ع)

حق بات کہو، خواہ وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو۔

— تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص 279۔

از: حضرت امام زین العابدین (ع)

لوگوں کی ضروریات تمہاری طرف اللہ کی نعمتوں میں سے ہیں، لہٰذا ان نعمتوں سے اکتاؤ نہیں، ورنہ یہ نعمتیں دوسروں کی طرف منتقل ہو جائیں گی۔

— تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص 245۔

از: حضرت امام حسین (ع)

اللہ تعالیٰ نے ایمان کو شرک سے پاکیزگی، نماز کو تکبر سے پاک ہونے، زکوٰۃ کو رزق میں اضافہ، اور روزے کو اخلاص کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

— الاحتجاج، احمد بن علی طبرسی، جلد 1، ص 258 (خطبۂ فدک سے)

از: حضرت فاطمہ زہرا (س)

عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ نہ وہ کسی نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ کوئی نامحرم مرد اسے دیکھے

— بحار الأنوار، علامہ مجلسی، جلد 43، ص 54

از: حضرت فاطمہ زہرا (س)

بہترین نیکی حسنِ اخلاق ہے

— تحف العقول، ص 234

از: حضرت امام حسن (ع)

عقل سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، اور جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں

— تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص 233۔

از: حضرت امام حسن (ع)

جب حضرت علیؑ سے بھائی اور دوست کے درمیان فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا:\r\n\r\n\"بھائی سونے کی طرح ہوتا ہے، جبکہ دوست ہیرے کی مانند ہوتا ہے۔\"\r\n\r\nجب پوچھا گیا کہ کیوں؟ تو آپؑ نے وضاحت فرمائی:\r\n\r\n\"اگر سونے کا زیور ٹوٹ جائے تو اسے پگھلا کر دوبارہ پہلے جیسی شکل دی جا سکتی ہے، لیکن اگر ہیرا ٹوٹ جائے تو اسے کبھی بھی اپنی پہلی کامل حالت میں واپس نہیں لایا جا سکتا۔\"\r\n\r\nیہ مثال ہمیں دوستی کی نازک، قیمتی اور بے حد انمول فطرت کا سبق دیتی ہے۔

از: حضرت علی ابن ابی طالب (ع)

جس کام کا پختہ ارادہ کر لو، جسم اُس کے بارے میں کمزوری نہیں دکھائے گا۔

از: حضرت امام جعفر صادق (ع)