کاپی ہو گیا ✓
غزل

خالی ہے ابھی جام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

از: عبدالحمید آدم

36 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

خالی ہے ابھی جام، میں کچھ سوچ رہا ہوں
اے گردشِ ایام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

ساقی، تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی
ساغر کو ذرا تھام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو
اب سن کے ترا نام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتا
دے بادۂ گل فام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

حل کچھ تو نکل آئے گا حالات کی ضد کا
اے کثرتِ آلام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت
پھر آج سرِ شام، میں کچھ سوچ رہا ہوں

عبدالحمید آدم
عبدالحمید آدم
پروفائل دیکھیں →

عبدالحمید آدم (1910–1981): ایک مشہور شاعر جنہیں جدیدیت کے انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔ آدم نے اپنی غزلوں میں وجودیت اور انفرادیت جیسے موضوعات کو اجاگر کیا۔