کاپی ہو گیا ✓
غزل

یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں

از: کشمیری لال ذاکر

46 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں

نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں

کریں گے آج کی شب کیا، یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں

کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں

انہیں فسانے کہو، دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں

خلوص، درد، محبت، وفا، رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں

تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں

کشمیری لال ذاکر
کشمیری لال ذاکر
پروفائل دیکھیں →

کشمیری لال ذاکر (1919–2016): ایک جدید اردو شاعر اور ناول نگار، ذاکر کے کاموں میں سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے موضوعات پر گہرائی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔