کاپی ہو گیا ✓
غزل

یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں

از: کشمیری لال ذاکر

137 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں
چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں

نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو
ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں

کریں گے آج کی شب کیا، یہ سوچنا ہوگا
تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں

کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں
وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں

انہیں فسانے کہو، دل کی داستانیں کہو
یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں

خلوص، درد، محبت، وفا، رواداری
یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں

تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں
تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں

کشمیری لال ذاکر
کشمیری لال ذاکر
پروفائل دیکھیں →

کشمیری لال ذاکر (1919–2016): ایک جدید اردو شاعر اور ناول نگار، ذاکر کے کاموں میں سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے موضوعات پر گہرائی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔