کاپی ہو گیا ✓
غزل

اے دل! وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

از: اختر شیرانی

38 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

اے دل! وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے
وہ عمر کیا ہوئی، وہ زمانے کدھر گئے

ویران ہیں صحن و باغ، بہاروں کو کیا ہوا
وہ بلبلیں کہاں، وہ ترانے کدھر گئے

ہے نجد میں سکوت، ہواؤں کو کیا ہوا
لیلائیں ہیں خاموش، دیوانے کدھر گئے

اجڑے پڑے ہیں دشت، غزالوں پہ کیا بنی
سونے ہیں کوہسار، دیوانے کدھر گئے

وہ ہجر میں وصال کی امید کیا ہوئی
وہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی
اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی
اختر شیرانی
پروفائل دیکھیں →

اختر شیرانی (1905–1948): ایک رومانوی شاعر، اختر شیرانی کی شاعری محبت، قدرت اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں "اردو کے شیکسپیئر" کا خطاب دیا گیا۔