کاپی ہو گیا ✓
غزل

ظلمتِ شب ہی سحر ہو جائے گی

از: سکندر علی وجد

32 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ظلمتِ شب ہی سحر ہو جائے گی
شدتِ غم چارہ گر ہو جائے گی

رونے والے یوں مصیبت پر نہ رو
زندگی اک دردِ سر ہو جائے گی

بعدِ تعمیرِ مکاں زنجیرِ غم
الفتِ دیوار و در ہو جائے گی

لا دلیلِ عشق و مستی درمیان
ختم بحثِ خیر و شر ہو جائے گی

ذکر اپنا جا بجا اچھا نہیں
سب کہانی بے اثر ہو جائے گی

صبحِ راحت کے تصور کے طفیل
ہر شبِ غم مختصر ہو جائے گی

صرف و عزمِ آتشیں درکار ہے
عمر سرگرمِ سفر ہو جائے گی

آ رہا ہے انقلابِ حشر خیز
زندگی زیر و زبر ہو جائے گی

سکندر علی وجد
سکندر علی وجد
پروفائل دیکھیں →