کاپی ہو گیا ✓
غزل

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجیے

از: اختر شیرانی

133 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجیے
رات دن صورت کو دیکھا کیجیے

چاندنی راتوں میں اک اک پھول کو
بے خودی کہتی ہے سجدہ کیجیے

جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر
عمر بھر اس کی تمنا کیجیے

عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کر
چاندنی راتوں میں رویا کیجیے

پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہ
بے خودی! تو ہی بتا کیا کیجیے

ہم ہی اس کے عشق کے قابل نہ تھے
کیوں کسی ظالم کا شکوہ کیجیے

آپ ہی نے دردِ دل بخشا ہمیں
آپ ہی اس کا مداوا کیجیے

کہتے ہیں اخترؔ، وہ سن کر میرے شعر
اس طرح ہم کو نہ رسوا کیجیے

اختر شیرانی
اختر شیرانی
پروفائل دیکھیں →

اختر شیرانی (1905–1948): ایک رومانوی شاعر، اختر شیرانی کی شاعری محبت، قدرت اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں "اردو کے شیکسپیئر" کا خطاب دیا گیا۔