کاپی ہو گیا ✓
غزل

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

از: آدا جعفری

119 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…