کاپی ہو گیا ✓
غزل

چاکِ دل بھی کبھی سلتے ہوں گے

از: آدا جعفری

162 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

چاکِ دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے

روز و شب کے انہی ویرانوں میں
خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے

ناز پرور وہ تبسم سے کہیں
سلسلے درد کے ملتے ہوں گے

ہم بھی خوشبو ہیں، صبا سے کہیو
ہم نفس روز نہ ملتے ہوں گے

صبح زنداں میں بھی ہوتی ہوگی
پھول مقتل میں بھی کھلتے ہوں گے

اجنبی شہر کی گلیوں میں "ادا"
دل کہاں، لوگ ہی ملتے ہوں گے

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…

معلومات
  • قسم: غزل
  • شاعر: آدا جعفری
  • اشعار: 6
  • ملاحظات: 162

رومن اردو میں پڑھیں

Roman Urdu