کاپی ہو گیا ✓
غزل

آخری ٹیس آزمانے کو

از: آدا جعفری

142 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

خری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو

یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو لوگ ہنستے رہے دکھانے کو

زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے اک دیا رہ گیا جلانے کو

جلنے والے تو جل بجھے آخر کون دیتا خبر زمانے کو

کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے ان کہی بات منہ پہ لانے کو

کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں دل کی ویرانیاں جتانے کو

حسرتوں کی پناہ گاہوں میں کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو

آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…