از: سکندر علی وجد
جن کی آنکھوں میں تھا سرورِ غزل اُن غزالوں کی یاد آتی ہے
سادگی لاجواب تھی جن کی اُن سوالوں کی یاد آتی ہے
جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے
وجدؔ لطفِ سخن مبارک ہو باکمالوں کی یاد آتی ہے
رومن اردو میں پڑھیں