کاپی ہو گیا ✓
غزل

جن کی آنکھوں میں تھا سرورِ غزل

از: سکندر علی وجد

36 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

جن کی آنکھوں میں تھا سرورِ غزل
اُن غزالوں کی یاد آتی ہے

سادگی لاجواب تھی جن کی
اُن سوالوں کی یاد آتی ہے

جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے

وجدؔ لطفِ سخن مبارک ہو
باکمالوں کی یاد آتی ہے

سکندر علی وجد
سکندر علی وجد
پروفائل دیکھیں →