کاپی ہو گیا ✓
غزل

دستِ تعزیر چومنے والے

از: عبداللہ زریم

87 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

دستِ تعزیر چومنے والے
ہم ہیں زنجیر چومنے والے

یہ حقیقت پسند تھوڑی ہیں
تیری تصویر چومنے والے

رہ گیا کھیل شہزادی کا
مر گئے تیر چومنے والے

یوں دکھاتے ہیں حسنِ قاتل کا
نوکِ شمشیر چومنے والے

تیرے خط کو شفا سمجھتے ہیں
تیری تحریر چومنے والے

صرف باتیں ہی کر سکا رانجھا
لے گئے ہیر چومنے والے

کیوں کریں جرأتِ شکایت بھی
دستِ تقدیر چومنے والے

اس کے ماتھے کو چومتے ہیں "زریمؔ"
ماہِ تنویر چومنے والے

عبداللہ زریم
عبداللہ زریم
پروفائل دیکھیں →

عبداللہ زریم ایک ابھرتے ہوئے اور بے حد مقبول نوجوان پاکستانی شاعر ہیں، جن کا تعلق بھکر، پنجاب سے ہے۔ ان کی پیدائش 1999ء میں ہوئی۔ وہ اپنی سادہ، دل…