کاپی ہو گیا ✓
غزل

کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں

از: آدا جعفری

30 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں
اک رسمِ وفا تھی سو وفادار بہت ہیں

لہجے کی کھنک ہو کہ نگاہوں کی صداقت
یوسفؑ کے لیے مصر کے بازار بہت ہیں

کچھ زخم کی رنگت میں گلِ تر کے قریں تھے
کچھ نقش کہ ہیں نقش بہ دیوار بہت ہیں

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
راستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں

اک خواب کا احساں بھی اٹھائے نہیں اٹھتا
کیا کہیے کہ آسودۂ آزار بہت ہیں

کیوں اہلِ وفا زحمتِ بیداد نگاہی
جینے کے لیے اور بھی آزار بہت ہیں

ہر جذبۂ بیتاب کے احکام ہزاروں
ہر لمحۂ بے خواب کے اسرار بہت ہیں

پلکوں تلک آ پہنچے نہ کرنوں کی تمازت
اب تک تو "ادا" آئینہ بردار بہت ہیں

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…