کاپی ہو گیا ✓
غزل

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جانِ آرزو!

از: اختر شیرانی

39 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جانِ آرزو!
تو ہی بتا دے ناز سے ایمانِ آرزو!

آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول
شاداب ہو رہا ہے گلستانِ آرزو!

ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر
تو جانِ آرزو ہے، تو ایمانِ آرزو!

ہونے کو ہے طلوع صباحِ شبِ وصال
بجھنے کو ہے چراغِ شبستانِ آرزو!

اک وہ کہ آرزوؤں پہ جیتے ہیں عمر بھر
اک ہم کہ ہیں ابھی سے پشیمانِ آرزو!

آنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں، دل ہے داغ داغ
دیکھے کوئی بہارِ گلستانِ آرزو!

دل میں نشاطِ رفتہ کی دھندلی سی یاد ہے
یا شمعِ وصل ہے تہِ دامانِ آرزو!

اخترؔ کو زندگی کا بھروسا نہیں رہا
جب سے لٹا چکے سر و سامانِ آرزو!

اختر شیرانی
اختر شیرانی
پروفائل دیکھیں →

اختر شیرانی (1905–1948): ایک رومانوی شاعر، اختر شیرانی کی شاعری محبت، قدرت اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں "اردو کے شیکسپیئر" کا خطاب دیا گیا۔