کاپی ہو گیا ✓
غزل

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا

از: محسن نقوی

171 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

میں دل پہ جبر کروں گا، تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی، تجھے بھی کڑی سزا دوں گا

یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیے بجھا دوں گا

ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا

اسی خیال میں گزری ہے شامِ درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

تو آسمان کی صورت ہے، گر پڑے گا کبھی
زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا

بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری
میں تیرے خط، تری تصویر تک جلا دوں گا

بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ
اس آئینے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا