کاپی ہو گیا ✓
غزل

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم

از: سکندر علی وجد

105 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم
عمر آنکھوں میں گزاری ہے تجھے کیا معلوم

نگہِ اوّلِ بے باک نے میرے دل پر
تیری تصویر اتاری ہے تجھے کیا معلوم

مہر یا قہر ترے چاہنے والے کے لیے
ہر ادا جان سے پیاری ہے تجھے کیا معلوم

وقت کٹتا ہی نہیں صبحِ مسرت آ جا
رات بیمار پہ بھاری ہے تجھے کیا معلوم

ایک مدت سے یہاں عمرِ رواں تیرے بغیر
وقفِ آلام شماری ہے تجھے کیا معلوم

خندہ زن صورتِ گل دامنِ صد چاک مرا
پرچمِ فصلِ بہاری ہے تجھے کیا معلوم

گلِ نوخاستہ کانٹوں کو حقارت سے نہ دیکھ
کس کی تقدیر میں خواری ہے تجھے کیا معلوم

وجدؔ ناپیدئیِ احساسِ مسرت کا سبب
عادتِ گریہ و زاری ہے تجھے کیا معلوم

سکندر علی وجد
سکندر علی وجد
پروفائل دیکھیں →