کاپی ہو گیا ✓
غزل

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم

از: سکندر علی وجد

43 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم
عمر آنکھوں میں گزاری ہے تجھے کیا معلوم

نگہِ اوّلِ بے باک نے میرے دل پر
تیری تصویر اتاری ہے تجھے کیا معلوم

مہر یا قہر ترے چاہنے والے کے لیے
ہر ادا جان سے پیاری ہے تجھے کیا معلوم

وقت کٹتا ہی نہیں صبحِ مسرت آ جا
رات بیمار پہ بھاری ہے تجھے کیا معلوم

ایک مدت سے یہاں عمرِ رواں تیرے بغیر
وقفِ آلام شماری ہے تجھے کیا معلوم

خندہ زن صورتِ گل دامنِ صد چاک مرا
پرچمِ فصلِ بہاری ہے تجھے کیا معلوم

گلِ نوخاستہ کانٹوں کو حقارت سے نہ دیکھ
کس کی تقدیر میں خواری ہے تجھے کیا معلوم

وجدؔ ناپیدئیِ احساسِ مسرت کا سبب
عادتِ گریہ و زاری ہے تجھے کیا معلوم

سکندر علی وجد
سکندر علی وجد
پروفائل دیکھیں →