کاپی ہو گیا ✓
غزل

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

از: آدا جعفری

135 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگ وفا تھا شاید

اس قدر تیز ہوا کے جھونکے شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

جس کی باتوں کے فسانے لکھے اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے اور وہی وقت دعا تھا شاید

خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…