کاپی ہو گیا ✓
غزل

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

از: ناصر کاظمی

143 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے

جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے

کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے

دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے

اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

ناصر رضا کاظمی پاکستان کے ایک اردو شاعر تھے۔ کاظمی 8 دسمبر 1925 کو امبالہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کاظمی نے اپنی شاعری میں سادہ الفاظ استعمال کیے،…