کاپی ہو گیا ✓
غزل

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

از: ناصر کاظمی

44 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے

جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے

کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے

دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے

اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

ناصر رضا کاظمی پاکستان کے ایک اردو شاعر تھے۔ کاظمی 8 دسمبر 1925 کو امبالہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کاظمی نے اپنی شاعری میں سادہ الفاظ استعمال کیے،…