کاپی ہو گیا ✓
غزل

ایک آئینہ روبرو ہے ابھی

از: آدا جعفری

122 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ایک آئینہ روبرو ہے ابھی
اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی

وہی خانہ بدوش امیدیں
وہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی

دل کے گنجان راستوں پہ کہیں
تیری آواز اور تو ہے ابھی

زندگی کی طرح خراج طلب
کوئی درماندہ آرزو ہے ابھی

بولتے ہیں دلوں کے سناٹے
شور سا یہ جو چار سو ہے ابھی

زرد پتوں کو لے گئی ہے ہوا
شاخ میں شدتِ نمو ہے ابھی

ورنہ انسان مر گیا ہوتا
کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

ہم سفر بھی ہیں، رہگزر بھی ہے
یہ مسافر ہی کو بہ کو ہے ابھی

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…