کاپی ہو گیا ✓
غزل

ایک آئینہ روبرو ہے ابھی

از: آدا جعفری

36 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ایک آئینہ روبرو ہے ابھی
اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی

وہی خانہ بدوش امیدیں
وہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی

دل کے گنجان راستوں پہ کہیں
تیری آواز اور تو ہے ابھی

زندگی کی طرح خراج طلب
کوئی درماندہ آرزو ہے ابھی

بولتے ہیں دلوں کے سناٹے
شور سا یہ جو چار سو ہے ابھی

زرد پتوں کو لے گئی ہے ہوا
شاخ میں شدتِ نمو ہے ابھی

ورنہ انسان مر گیا ہوتا
کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

ہم سفر بھی ہیں، رہگزر بھی ہے
یہ مسافر ہی کو بہ کو ہے ابھی

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…