کاپی ہو گیا ✓
غزل

اتنی مدت بعد ملے ہو

از: محسن نقوی

151 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو

اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو

جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں، تم سچے ہو

اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو

کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو

رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو

ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو، اب تم کیسے ہو

محسنؔ تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو