کاپی ہو گیا ✓
غزل

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا

از: توقیر عباس

45 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا

چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا

روح دیتی ہے اب دکھائی مجھے
آئینہ آگ سے گزارا تھا

میری آنکھوں میں آ کے راکھ ہوا
جانے کس دیس کا ستارہ تھا

وہ تو صدیوں سے میری روح میں تھا
عکس پتھر سے جو ابھارا تھا

زندگی اور کچھ نہ تھی، توقیرؔ
طفل کے ہاتھ میں غبارہ تھا