کاپی ہو گیا ✓
غزل

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا

از: توقیر عباس

153 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا

چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارہ تھا

روح دیتی ہے اب دکھائی مجھے
آئینہ آگ سے گزارا تھا

میری آنکھوں میں آ کے راکھ ہوا
جانے کس دیس کا ستارہ تھا

وہ تو صدیوں سے میری روح میں تھا
عکس پتھر سے جو ابھارا تھا

زندگی اور کچھ نہ تھی، توقیرؔ
طفل کے ہاتھ میں غبارہ تھا