کاپی ہو گیا ✓
غزل

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

از: بہادر شاہ ظفر

131 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا تمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسے لب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب لگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک ہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم کہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوامنگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو مجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک مجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا

بہادر شاہ ظفر
بہادر شاہ ظفر
پروفائل دیکھیں →

بہادر شاہ ظفر (1775–1862): ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ، وہ ایک اردو شاعر اور موسیقار بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کے گہرے غم اور مغل سلطنت کے زوال کی…