کاپی ہو گیا ✓
غزل

بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا

از: منیر نیازی

127 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

اس حسن کا شیوہ ہے، جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا

منیر نیازی پاکستان کے ممتاز شاعر تھے۔ انہوں نے زیادہ تر اردو اور پنجابی زبانوں میں شاعری کی، اور اخبارات، رسائل اور ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔ 1960ء میں انہوں…