67 غزل ملی
جب وہ مسرور نظر آتا ہے ہر طرف نور نظر آتا ہے
ہزار نقص ہیں مجھ میں، مرے کمال کو دیکھ مجھے نہ دیکھ، دل آویزیِ خیال…
کیف جو روح پہ طاری ہے تجھے کیا معلوم عمر آنکھوں میں گزاری ہے تجھے…
خوشی یاد آئی نہ غم یاد آئے محبت کے ناز و نعم یاد آئے
جن کی آنکھوں میں تھا سرورِ غزل اُن غزالوں کی یاد آتی ہے
بیابانوں پہ زندانوں پہ ویرانوں پہ کیا گزری جہانِ ہوش میں آئے تو دیوانوں پہ…
ظلمتِ شب ہی سحر ہو جائے گی شدتِ غم چارہ گر ہو جائے گی
کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطاکار بہت ہیں اک رسمِ وفا تھی سو وفادار…
دیپ تھا یا تارا، کیا جانے دل میں کیوں ڈوبا، کیا جانے
چاکِ دل بھی کبھی سلتے ہوں گے لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
اجالا دے چراغِ رہگزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارہ ہم سفر آساں نہیں ہوتا
کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے…