60 غزل ملی
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرہ ہے، سمندر تری آنکھیں
ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی میری طرح کسی سے محبت اسے بھی…
یہ دل، یہ پاگل دل مرا، کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر…
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی…
اتنی مدت بعد ملے ہو کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
یہ چاند اتنا نڈھال کیوں ہے، یہ سوچتا ہوں یہ چاندنی کو زوال کیوں ہے،…
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے…
شبنم میں، چاندنی میں، گلابوں میں آئے گا اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے…
بھری ہے دل میں جو حسرت، کہوں تو کس سے کہوں سنے ہے کون مصیبت،…
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل، کبھی…
ایک آئینہ روبرو ہے ابھی اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی