60 غزل ملی
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی، ذکر تمہارا…
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجیے رات دن صورت کو دیکھا کیجیے
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو…
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی
خیال جس کا تھا مجھے، خیال میں ملا مجھے سوال کا جواب بھی سوال میں…
وہ شمعِ اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں اک روز چمکنے والی…
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جانِ آرزو! تو ہی بتا دے ناز سے ایمانِ آرزو!
اے دل! وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے وہ عمر کیا ہوئی، وہ زمانے کدھر…
خالی ہے ابھی جام، میں کچھ سوچ رہا ہوں اے گردشِ ایام، میں کچھ سوچ…