67 غزل ملی
یہ چاند اتنا نڈھال کیوں ہے، یہ سوچتا ہوں یہ چاندنی کو زوال کیوں ہے،…
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے…
شبنم میں، چاندنی میں، گلابوں میں آئے گا اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے…
بھری ہے دل میں جو حسرت، کہوں تو کس سے کہوں سنے ہے کون مصیبت،…
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل، کبھی…
ایک آئینہ روبرو ہے ابھی اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی، ذکر تمہارا…
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجیے رات دن صورت کو دیکھا کیجیے
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو…
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے