60 غزل ملی
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگ وفا تھا شاید
خری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام…
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہم راہ…
آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی پر حیف ترے دل میں محبت نہ…
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ…
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا یہ عشق جان کو میرے کوئی…
ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کاہائے وہ وقت ،…