67 غزل ملی
مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ…
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ…
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ…
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا، لگنے لگا ہے…
پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں اب اس کے جادو بدن کے…
تیرے تصورات سے آگے نہیں گیا یہ دل توہمات سے آگے نہیں گیا
دستِ تعزیر چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگ وفا تھا شاید
خری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو