کاپی ہو گیا ✓
غزل

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں

از: عمیر نجمی

70 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
لگے گا، لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں

نہیں لگے گا اسے دیکھ کر مگر خوش ہے
میں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر لگے گا نہیں

ہمارے دل کو ابھی مستقل پتا نہ بنا
ہمیں پتا ہے ترا دل ادھر لگے گا نہیں

جنوں کا حجم زیادہ، تمہارا ظرف ہے کم
ذرا سا گملا ہے، اس میں شجر لگے گا نہیں

اک ایسا زخم نما دل قریب سے گزرا
دل اس کو دیکھ کے چیخا، ٹھہر! لگے گا نہیں

جنوں سے کند کیا ہے سو اس کے حسن کا کیل
مرے سوا کسی دیوار پر لگے گا نہیں

بہت توجہ تعلق بگاڑ دیتی ہے
زیادہ ڈرنے لگیں گے تو ڈر لگے گا نہیں

عمیر نجمی، رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف شاعر ہیں۔ وہ خاص طور پر اپنی اردو غزلوں اور نظموں کی بدولت ادبی دنیا میں پہچانے…