کاپی ہو گیا ✓
غزل

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

از: منیر نیازی

37 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے

خراب صدیوں کی بے خوابیوں تھیں آنکھوں میں
اب ان بے انت خلاؤں میں خواب کیا دیتے

ہوا کی طرح مسافر تھے دلبروں کے دل
انہیں بس ایک ہی گھر کا عذاب کیا دیتے

شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میں
ہم اتنی تنگی میں اس کو شراب کیا دیتے

منیرؔ دشت شروع سے سراب آسا تھا
اس آئینے کو تمنا کی آب کیا دیتے

منیر نیازی پاکستان کے ممتاز شاعر تھے۔ انہوں نے زیادہ تر اردو اور پنجابی زبانوں میں شاعری کی، اور اخبارات، رسائل اور ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔ 1960ء میں انہوں…