کاپی ہو گیا ✓
غزل

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

از: منیر نیازی

153 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے

خراب صدیوں کی بے خوابیوں تھیں آنکھوں میں
اب ان بے انت خلاؤں میں خواب کیا دیتے

ہوا کی طرح مسافر تھے دلبروں کے دل
انہیں بس ایک ہی گھر کا عذاب کیا دیتے

شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میں
ہم اتنی تنگی میں اس کو شراب کیا دیتے

منیرؔ دشت شروع سے سراب آسا تھا
اس آئینے کو تمنا کی آب کیا دیتے

منیر نیازی پاکستان کے ممتاز شاعر تھے۔ انہوں نے زیادہ تر اردو اور پنجابی زبانوں میں شاعری کی، اور اخبارات، رسائل اور ریڈیو کے لیے بھی لکھا۔ 1960ء میں انہوں…