کاپی ہو گیا ✓
غزل

جو چراغ سارے بجھا چکے، انہیں انتظار کہاں رہا

از: آدا جعفری

30 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

جو چراغ سارے بجھا چکے، انہیں انتظار کہاں رہا
یہ سکوں کا دورِ شدید ہے، کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی
کسی کارواں کا جو ذکر تھا، وہ پسِ غبار کہاں رہا

یہ طلوعِ روزِ ملال ہے، سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہم
کوئی دلربا، کوئی دل شکن، کوئی دل فگار کہاں رہا

کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب
ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ہمیں کوچہ بہ کوچہ جو لیے پھری، کسی نقشِ پا کی تلاش تھی
کوئی آفتاب تھا ضوفگن، سرِ رہگزار کہاں رہا

مگر ایک دھن تو لگی رہی، نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہوا
کہ نگاہ کو رنگِ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا

سرِ دشت ہی رہا تشنہ لب، جسے زندگی کی تلاش تھی
جسے زندگی کی تلاش تھی، لبِ جوئے بار کہاں رہا

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…