از: سکندر علی وجد
جب وہ مسرور نظر آتا ہے ہر طرف نور نظر آتا ہے
میں تو مے خوار ہوں، تو کیوں ساقی نشے میں چور نظر آتا ہے
قرب سے ہاتھ اٹھایا میں نے تو بڑی دور نظر آتا ہے
میں ہی تنہا نہیں دل کے ہاتھوں تو بھی مجبور نظر آتا ہے
خاکساری کو چھپانے کے لیے وجدؔ مغرور نظر آتا ہے
رومن اردو میں پڑھیں