کاپی ہو گیا ✓
غزل

کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں

از: آدا جعفری

142 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

کیا جانیے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوں

تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کا
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں

پھولوں کے کٹوروں سے چھلک پڑتی ہے شبنم
ہنسنے کو ترے پیچھے بھی سو بار ہنسی ہوں

تیرے لیے تقدیر مری جنبشِ ابرو
اور میں ترا ایماۓ نظر دیکھ رہی ہوں

صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنتِ انساں
میں جنتِ انساں کا پتا پوچھ رہی ہوں

دل کو تو یہ کہتے ہیں کہ بس قطرۂ خوں ہے
کس آس پہ اے سنگِ سرِ راہ چلی ہوں

جس ہاتھ کی تقدیس نے گلشن کو سنوارا
اس ہاتھ کی تقدیر پہ آزردہ رہی ہوں

قسمت کے کھلونے ہیں اُجالا کہ اندھیرا
دل شعلہ طلب تھا سو بہرحال جلی ہوں

آدا جعفری، جنہیں اکثر آدا جعفری کے نام سے لکھا جاتا ہے، ایک پاکستانی شاعرہ تھیں جنہیں اردو شاعری میں پہلی بڑی خواتین شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے…