کاپی ہو گیا ✓
غزل

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

از: عبدالحمید آدم

142 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے

رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں
تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے

چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی
اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے

مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی
مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے

شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال
اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے

ہے حسن کا فسوں بھی علاجِ فسردگی
رخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے

میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی، پر آج شب
اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے

امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محل
آغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے

کیفیتِ سکوت سے بڑھتا ہے اور غم
قصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے

یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ
کم بخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے

توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ
تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے

عبدالحمید آدم
عبدالحمید آدم
پروفائل دیکھیں →

عبدالحمید آدم (1910–1981): ایک مشہور شاعر جنہیں جدیدیت کے انداز کے لیے جانا جاتا ہے۔ آدم نے اپنی غزلوں میں وجودیت اور انفرادیت جیسے موضوعات کو اجاگر کیا۔