کاپی ہو گیا ✓
غزل

وہ روشنی جو شفق کا لباس چھوڑ گئی

از: توقیر عباس

141 بار دیکھا گیا
شیئر کریں

وہ روشنی جو شفق کا لباس چھوڑ گئی
مرے لیے تو وہ لمحے اداس چھوڑ گئی

بہار درد بھرا اقتباس چھوڑ گئی
ہر اک شجر کا بدن بے لباس چھوڑ گئی

عجیب لہر میں ہم نے ہوا کا ساتھ دیا
عجیب موڑ پہ اب غم شناس چھوڑ گئی

نسیمِ صبح گلوں کو گداز دیتی رہی
مگر دلوں کی فضا کو اداس چھوڑ گئی

پھر اس سے اگلا سفر روشنی کا تھا توقیرؔ
مجھے جہاں وہ ستارہ شناس چھوڑ گئی