341 شاعری ملی
جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا
مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ…
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ…
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ…
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا، لگنے لگا ہے…
پڑا ہے ہجر تو ایسے ہی جی لبھاتے ہیں اب اس کے جادو بدن کے…
تیرے تصورات سے آگے نہیں گیا یہ دل توہمات سے آگے نہیں گیا
دستِ تعزیر چومنے والے ہم ہیں زنجیر چومنے والے
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے…
کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو…
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ…