341 شاعری ملی
جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر…
راکھیاں لے کے سلوں کی برہمن نکلیں تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی…
سنا ہے محتسب بھی تاک میں ہے دخترِ راز کی الٰہی رکھ لے تُو حرمت…
دیکھیے ہوگا شری کرشن کا درشن کیوں کر سینۂ تنگ میں دل گویوں کا ہے…
دامن سے وہ پوچھتا ہے آنسو رونے کا کچھ آج ہی مزا ہے
دل میں ہو جذبۂ آتش تو ہر اک بات میں رنگ ورنہ خاک کے پتلے…
کیا لطف زندگی کا، جو کچھ طوفاں نہ ہوں درپیش کشتی بھی کہے، ساحل کا…
آتشؔ کسی کے عشق میں دنیا کو کیا سمجھ صحرا کو دیکھتے تھے تو دریا…
جگر کے پار ہو جاتی ہیں باتیں دل کی جو نکلیں زباں قابو میں ہو…
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں…
دل دیا دل لگی میں ہم نے، یہ خطا کی بڑی سزا پائی اب جو…