341 شاعری ملی
ملت کے ساتھ ہو تو ہے شانِ زندگی تنہا ہو تو موت ہے، کچھ بھی…
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن…
جُدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو یہ داغ وہ ہے کہ دشمن…
ہم تو خود پسند بہت لیکن عشق میں اب ہے وہی پسند جو ہو یار…
دل کی بے تابی نہیں ٹھہرنے دیتی ہے مجھ ےدن کہیں رات کہیں صبح کہیں…
میں پی کے جو گرتا ہے تو لیتے ہیں اسے تھام نظر سے گرا جو…
سب کتابوں کے کھل گئے معنی جب سے دیکھی نذیر دل کی کتاب
جو ناچ دیکھتا ہے وہ ہے وہ بھی آدمی رندی بھی آدمی ہی نچاتی ہے…
آشِک کو دیکھتے ہیں دوپٹے کو تان کر دیتے ہیں ہم کو شربتِ دیدار چھان…
تمام عمر اسی احتیاط میں گزری کہ آشیان کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو
تمام عمر جو کی ہم سے بے رُخی سب نے کفن میں ہم بھی عزیزوں…
اشکِ غم، دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے یہ وہ بچے ہیں جو ماں…