341 شاعری ملی
بھری ہے دل میں جو حسرت، کہوں تو کس سے کہوں سنے ہے کون مصیبت،…
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل، کبھی…
ایک آئینہ روبرو ہے ابھی اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی
کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تم نہ ہوتے نہ سہی، ذکر تمہارا…
وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجیے رات دن صورت کو دیکھا کیجیے
کل وہ ملی جو بچپن میں میرے بھائی سے کھیلا کرتی تھی جانے تب کیا…
وہ خوبصورت لڑکیاں دشتِ وفا کی ہرنیاں
ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو، کوئی…
بے چین بہت پھرنا، گھبرائے ہوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو…