334 شاعری ملی
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدندوستو مجھ پر کوئی پتھر…
ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستودوستانہ زندگی سے موت سے یاری…
بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائے
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب…
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرامیں اس کے تاج کی قیمت لگا…
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو…
ہم ایسے سادہ دلوں کی بھی کیا تغافل ہے جو پوچھتے ہیں یہی، کیوں خفا…
اب مجھ کو نظر آتی ہے ہر چیز میں برکت اک تیری رضا شاملِ حالات…
لے ہی چلے گا کچھ نہ کچھ، اس حسن کا جنوں رنگیں ہے بوئے گل،…
ہم نہ کہتے تھے کہ زوقؔ آخر یہ دن بھی آئے گا دیکھ لی ہم…