341 شاعری ملی
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کامومن! وہ شخص ہو تو کرے…
دل کے آئینے میں ہے تصویر یارجب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
عشق کے دریا میں ڈوبی ہیں تمنائیں مریاب کہاں وہ ہوش باقی، اب کہاں…
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ…
ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے بھول کے کہتا…
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈبویا مجھ کو…
تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہ جو شہر ہے، یہ جو لوگ ہیںیہ سب کچھ ہے، مگر کچھ نہیں…
یادیں بھی عجیب ہوتی ہیںکبھی مسکراتی ہیں، کبھی رلاتی ہیں
ہر بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائےکبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا…
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دوچار کتابیں پڑھ کر یہ بھی…