334 شاعری ملی
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجومِ یاس جی گھبرا گیا
ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ…
درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سبکس طرف سے آئے تھے، کدھر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہےہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے جو…
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کوورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ…
میرے ہاتھ پکڑ لے پاگل جنگل ہے، جتنا بھی روشن ہو جنگل، جنگل ہے
شام بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانا ہے کوئی، کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا…
یاد تصویر میں تنہا ہوں مگر لوگ ملے، کئی تصویر سے پہلے کئی تصویر کے…
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط جہاں سے کوئی گزرتا نہیں…
میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدید، ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو…
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو، دیر سے انتظار ہے اپنا