334 شاعری ملی
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
بعد مرنے کے میری قبر پہ آیا وہ 'میر'، یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا…
پتہ پتہ، بوٹا بوٹا، حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے،…
ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
محبتوں کا جنازہ اٹھا رہا ہوں میںیہ میرا دل ہے جو خود کو جلا…
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول…
میں کہاں رکھتا ہوں دکھ اپنے زمانے کے لیےاک تیری خاطر بہت دکھ سہے…
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے…
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیںسو اُس کے شہر میں کچھ…
میں جس کے ہاتھ میں اک جام دے کے آیا تھااسی کے ہاتھ میں…
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھااپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے