334 شاعری ملی
دیدۂ اشک بار ہے اپنادل محو جمال ہو گیا ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیںہم سے زمانہ خود ہے زمانے…
یہ عشق نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب…
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہےسمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ…
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیںوہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میںکتنا حسین گناہ کیے جا…
ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا…
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میںجیسے ہر شے میں…
زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہموت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا…
آج ایک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے…
آدمی آدمی سے ملتا ہےدل مگر کم کسی سے ملتا ہے
یہ پرچھائیاں، یہ خامشی، یہ تنہائی یہ رات، یہ ہجر، یہ درد کی گہرائی